مسلمانوں کی شناخت پر حملہ، مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ
پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پیر کے روز ایک بڑے تنازعے کے مرکز میں آ گئے جب تقرری نامے تقسیم کرنے کی ایک تقریب کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی، جس میں مبینہ طور پر انہیں اسٹیج پر ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب کھینچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک سرکاری پروگرام کے دوران پیش آیا جہاں نئے بھرتی ہونے والے ڈاکٹروں کو تقرری نامے دیے جا رہے تھے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس کے بعد شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ کے رویّے کو “شرمناک”، “غیر حساس” اور عورت کی عزت و ذاتی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے نتیش کمار پر مذہبی اور ذاتی حدود کی بے حرمتی کا الزام لگاتے ہوئے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایک عوامی تقریب میں وزیر اعلیٰ کے رویّے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات معاشرے میں خواتین کی سلامتی اور احترام کے بارے میں غلط پیغام دیتے ہیں۔
ایک اپوزیشن رہنما نے کہا،
“وزیر اعلیٰ نے تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ کسی عورت کے لباس کو عوامی طور پر چھونا، خاص طور پر ایسا لباس جو مذہبی شناخت سے جڑا ہو، مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔”
ابھی تک وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم، نتیش کمار کے حامیوں نے اس تنازعے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل کو غلط سمجھا گیا ہے اور اس میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔
دریں اثنا، ویڈیو آن لائن شدید ردِ عمل کو جنم دے رہی ہے، جہاں سول سوسائٹی گروپس اور سوشل میڈیا صارفین احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور عوامی و سرکاری تقاریب میں شائستگی اور حساسیت برقرار رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
یہ تنازعہ بہار کے پہلے سے ہی گرم سیاسی ماحول میں مزید شدت لے آیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو ایوان کے اندر اور باہر دونوں جگہ اٹھاتی رہیں گی۔
یہ واقعہ محض ایک خاتون کے لباس سے جڑا معاملہ نہیں بلکہ اسے مسلمانوں کی مذہبی شناخت پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حجاب اسلام میں وقار، شناخت اور مذہبی آزادی کی علامت ہے، اور ایک عوامی تقریب میں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف خواتین کی عزت کے خلاف ہیں بلکہ مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر بھی سوال کھڑے کرتے ہیں۔










Leave a Reply